صدر رجب طیب ایردوان نے تاریخ ترکیہ کے ایک اہم موڑ 30 اگست یوم فتح کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا۔
ایردوان نے اپنے پیغام میں اس دن کو قوم کے غیر متزلزل ایمان، بہادری کے جذبے اور آزادی و خودمختاری کے لیے اجتماعی جدوجہد کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "یہ عظیم فتح، جو ہماری بہادر فوج کی حب الوطنی اور قوم کی متحدہ قوت ارادی کے ذریعے حاصل کی گئی، غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر ہماری آزادی کا راستہ ہموار کیا۔"
ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ یوم فتح صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ ترک قوم کی وجود کی جدوجہد اور اس کی دائمی آزادی کا "احیاء" بھی ہے۔
جمہوریہ ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں 26 اگست 1922 کو شروع ہونے والی عظیم جارحانہ مہم، جو یوم فتح کا حصہ تھی، نے ترکیہ کی آزادی کو یقینی بنایا اور اسی سال 18 ستمبر کو مکمل ہوئی۔
ترک قوم اپنی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی
صدر اردوان نے کہا کہ یوم فتح نے نہ صرف ترک قوم بلکہ تمام مظلوم اقوام کو امید دی جو غلامی کے زیر اثر تھے۔
انہوں نے کہا، "اس فتح کے ذریعے ترک قوم نے ایک بار پھر پوری دنیا کو اعلان کیا کہ یہ قوم کبھی زیر نہیں ہوگی، کبھی غلامی قبول نہیں کرے گی، اور اپنی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔"
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کا فرض ہے کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ آزادی کے مشعل کو ایک مضبوط مستقبل کی طرف لے جائے۔
انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا، "اس بامعنی دن پر میں خاص طور پر غازی مصطفیٰ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں اور ان شہداء، جنہوں نے وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں کی مغفرت کا دعا گو ہوں، اور اپنے بہادر غازیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔"