ترکیہ، اسپین، برطانیہ اور جرمنی نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے E1 میں ہزاروں غیر قانونی آبادکاری بستیوں کی منظوری پر اسرائیل کی مذمت کی اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے لئے نقصان دہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی بروز جمعرات جاری کردہ خبر کے مطابق وزیر خزانہ بیزلل سموٹریچ نے مشرقی القدس کے علاقے معالیہ ادومیم میں 3,401 آبادکاری بستیوں اور آس پاس کے علاقوں میں مزید 3,515 بستیوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
یہ منصوبہ مغربی کنارے کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کرنے اور مشرقی القدس کوتنہا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
ترکیہ وزارتِ خارجہ نے کہا ہےکہ یہ اقدام "بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطین کی علاقائی سالمیت کو اور پائیدار امن کی امیدوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔"
ترکیہ نے 1967 کی سرحدوں پر مبنی اور مشرقی القدس کے دارالحکومت والی ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اسپین کے وزیر خارجہ ہوز ےمینوئل الباریس نے اس توسیع پسندی کو "بین الاقوامی قانون کی ایک نئی خلاف ورزی" قرار دیا اور کہا ہے کہ " یہ اقدام ، امن کے واحد راستے یعنی دو ریاستی حل کی عملی حیثیت کو نقصان پہنچا رہا ہے" ۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے کہا ہے کہ اسرائیلی اقدامات، غزہ کی پہلے ہی سے"خوفناک" صورتحال کو مزید خراب کر رہے اور دو ریاستی حل کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے کینیڈین اور فرانسیسی ہم منصبوں کے ہمراہ مشترکہ بیان میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اور انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر بات کی ہے۔
جرمنی کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہزاروں نئے گھروں کے اضافے کے منصوبے کو "سختی سے مسترد" کیا اور اسرائیل پر زور دیا ہےکہ وہ "نئی بستیوں کی تعمیر کو روکے" ۔
فلسطین وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے "بڑے اسرائیل" تصّور کا حصہ قرار دیا اس کی مذّمت کی اور خبردار کیا ہےکہ یہ فیصلہ قبضے کو مزید مستحکم کرے گا اور فلسطینی ریاست کے امکانات کو ختم کر دے گا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ ،مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں اسرائیلی آبادکاریوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت، غیر قانونی قرار دیتی ہے۔
جولائی میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور تمام آبادکاروں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے حکام بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ دو ریاستی حل کئی دہائیاں پرانے اسرائیل۔فلسطین تنازعے کے حل کے لئے ایک کلیدی لائحہ عمل ہے اور آبادکاری کی مسلسل توسیع اس حل کی عملداری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔