پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 40 سالوں کے بدترین سیلاب کی وجہ سےسینکڑوں دیہات اور اناج سے بھری فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ ایک ملین سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
شدید مون سون بارشوں اور بھارت کی طرف سے ڈیموں کا اضافی پانی چھوڑے جانے کے باعث پاکستان کے صوبہ پنجاب کے 3 دریا وں میں طغیانی آ گئی ہے۔
پنجاب محکمہ قدرتی آفات کے مطابق حکام کو کچھ علاقوں میں مجبوراً دریا کے کنارے توڑنے پڑے ہیں جس کے نتیجے میں 1,400 سے زیادہ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔
دریائے چناب میں طغیانی کے نتیجے میں قادرآباد کے رہائشی سینے تک گہرے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔حکام نے کہا ہےکہ بھارت کی طرف سے دریائے راوی، ستلج اور چناب پر باندھے گئے ڈیموں کا پانی چھوڑے جانے کے باعث سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراء اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ہمراہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور بار بار پیش آنے والے ان مسائل کے حل کے لئے نئے آبی ذخائر کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک سرکاری اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ "بدقسمتی سے، پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں آنے والے سالوں میں مزید اضافہ ہو گا لہٰذا ہمیں فوری اقدامات کی ضرورت ہے"۔
پنجاب، جو پاکستان کی نصف آبادی کا گھر اور گندم، چاول اور کپاس کی پیداوار کا اہم مرکز ہے، اس ہفتے کے دوران کم از کم 12 اموات دیکھ چکا ہے۔ ملک بھر میں، جون کے آخر سے تاحال سیلاب کے باعث 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جمعرات کی صبح، دریائے چناب کا پانی قادرآباد کے 1,000 میٹر صلاحیت کے بیراج کو توڑنے کے قریب تھا ۔حکام نے بیراج کو نقصان سے اور دو قصبوں کو زیر آب آنے سے بچانے کے لیے دریا کے کنارے کا ایک حصہ توڑ دیا ہے۔ جس سے سیلابی پانی کا رُخ قریبی زمین کی طرف مُڑ گیا ہے۔
پنجاب محکمہ قدرتی آفات کے ترجمان نے کہا ہے کہ"ہم نے خطرے کو ٹال دیا ہے۔جمعرات کو بعد دوپہر تک بیراج میں پانی کا بہاؤ تقریباً 755,000 کیوسک تک کم ہو گیا تھا"۔
حکام نے موسمیاتی تبدیلیوں کو تباہ کن سیلابی ریلوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ 2022 میں بھی شدید مون سون بارشوں کی وجہ سے 1,000 افراد ہلاک ہو گئےتھے۔ کھڑی فصلیں، سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے تھے۔
پاکستان قومی محکمہ آفات کے سربراہ انعام حیدر ملک نے کہا ہےکہ اس سال کا سیلاب مشرق، جنوب اور مغرب سے آنے والے موسمی نظاموں کے اتصال کی وجہ سے آیا ہے۔
منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ "موسمیاتی بحران "نیا معمول" بن گئے ہیں لیکن یہ ناقابل انتظام نہیں ہیں"۔