یورپی طاقتوں نے ایران پر دوبارہ اقوام متحدہ پابندیوں کا نفاذ کرنے کے لئے 30 روزہ اُلٹی گنتی شروع کر دی ہے ۔
موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں یورپی یونین خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا ہے کہ یہ مدت سفارت کاری کے لیے ایک اہم موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
آج بروز جمعہ صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ "ہم اس 30 روزہ مہلت کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایسا مرحلہ جو ہمیں واقعی سفارتی طریقے سے حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ معاملات کو سلجھانے کے لیے ہمارے پاس 30 دن ہیں"۔
واضح رہے کہ فرانس، برطانیہ، اور جرمنی کی جانب سے یہ اقدام ،ایران کی2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں پر،کئی ہفتوں کی تنبیہات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا وعدہ کیا تھا تاکہ اسے بین الاقوامی پابندیوں سے نجات مل سکے۔ اس میکانزم کے تحت، اگر ایران کو معاہدے کی پابندی میں قصوروار پایا گیا تو معطل پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہیں۔
ایران مناسب جواب دے گا
اس سے قبل، ایران نے 30 دن کی تجویز پر محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ وہ اس اقدام کا "مناسب جواب" دے گاجس سے خدشہ پیدا ہوا ہےکہ یہ قدم جوہری بحران کے پرامن حل کے لیے برسوں کی سفارتی کوششوں کو پٹری سے اتار سکتا ہے۔
تاہم، یورپی حکام محتاط امید کا اظہار کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے آئندہ 30 دنوں کو نیا معاہدہ طے کرنے کے لئے ایک "موقع" قرار دیا ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ نے ایران کے جوہری پروگرام میں اضافے کو روکنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہےکہ یہ اقدام"سفارت کاری کے خاتمے کا اشارہ نہیں دیتا"۔
تہران کے ساتھ ایک سمجھوتہ کرنے اور پابندیوں کے خودکار نفاذ سے پہلے ایک نئے تصادم کے سدّباب کے لیے آئندہ ہفتوں میں یورپی طاقتوں کی جانب سے بھرپور سفارتی کوششیں متوقع ہیں۔