امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیرِ تجارت نے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے اصل میں "مودی کی جنگ" ہے۔
بعد وائٹ ہاوس کے مشیرِ تجارت 'پیٹر نوارو ' نے بلومبرگ ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو میں بھارت کی توانائی پالیسی پر تنقید کو مزید بڑھاتے ہوئے یوکرین پر روسی حملوں کو "مودی کی جنگ" قرار دیا اورکہا ہے بھارتی مال پر بھاری محصولات نئی دہلی کی روسی تیل کی درآمدات سے مربوط ہیں۔
پیٹر نوارو نے یہ تبصرے ، ٹرمپ انتظامیہ کے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد محصولات عائد کرنے سے چند گھنٹے بعد کئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ "امریکہ میں ہر کوئی بھارت کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے۔ صارفین اور کاروبار نقصان اٹھا رہے ہیں، مزدور نقصان اٹھا رہے ہیں کیونکہ بھارت کے زیادہ محصولات ہمیں ملازمتوں، کارخانوں اور آمدنی سے محروم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان نقصان اٹھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں مودی کی جنگ کے لیے فنڈ فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔"
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ"پوتن کی جنگ" کی بات کر رہے ہیں تو نوارو نے زور دے کر کہا ہے کہ "میرا مطلب مودی کی جنگ ہے، کیونکہ امن کا راستہ کسی حد تک نئی دہلی سے ہو کر گزرتا ہے" ۔
محصولات اور الزامات
محصولات میں اضافے میں 25 فیصد جرمانہ شامل ہے جو براہ راست بھارت کی روسی تیل اور ہتھیاروں کی خریداری سے منسلک ہے۔ نوارو نے دلیل دی کہ بھارت رعایتی قیمت پر خام تیل خرید کر بھاری منافعے کے ساتھ فروخت کر کے "روسی جنگی مشین" کو تقویت دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "حل بہت آسان ہے۔ بھارت روسی تیل خریدنا بند کر دے تو کل سے ہی 25 فیصد رعایت حاصل کر سکتا ہے "۔