اسرائیلی فوج، شام کے جنوبی صوبے 'قنیطرہ 'کے دیہی علاقوں میں جارحانہ کارروائیاں کر کے ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے ۔
شام کے سرکاری ٹی وی 'الاخباریہ' کے مطابق اسرائیلی افواج نے بروز بدھ گولان پہاڑیوں میں، بفر زون کے اندر واقع، راسم الروادی کے علاقے اور قنیطرہ کے دیہی علاقے 'سمندانیہ الغربیہ' کی طرف پیش قدمی کی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا گیا۔
ماہِ اگست کے دوران اسرائیلی فوج نے شام کے جنوب مغربی صوبے قنیطرہ میں، بروز منگل کی گئی تازہ ترین کاروائی سمیت، پانچ بار جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ اس جارحیت و اشتعال انگیزی کے دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
مہلک ڈرون حملہ
شام نے بدھ کے روز کئے گئے اور دمشق کے دیہی علاقے میں چھ فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بننےوالے، مہلک اسرائیلی ڈرون حملے کی مذّمت کی ہے۔
شام وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "یہ جارحیت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بیخ کُنی اور شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی کھُلی خلاف ورزی ہے۔"
وزارت نے حملے کو اسرائیل کی قبضہ پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ جارحانہ کاروائیاں خطے کی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں"۔
وزارت نے کہا ہے کہ شام ،بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی زمین اور عوام کے دفاع کے جائز حق پر قائم رہے گا"۔
بیان میں بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ "بار بار ہونے والی اس جارحیت کو روکنے کے لیے اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیلی قبضہ حکام کو شام، اس کے عوام اور اس کے قومی اداروں پر دست درازی سے باز رہنے کا پابند کرے"۔
دمشق کی حمایت
ترکیہ نے قبل ازیں بھی شام میں اسرائیل کے وسیع حملوں کی مذمت کی اور انہیں شام کی علاقائی سالمیت اور وحدت کی خلاف ورزی قرار دیا اور ان کے خاتمے پر زور دیا تھا حالیہ حملوں پر جاری کردہ بیان میں بھی شام کے استحکام اور خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب، قطر اور اردن نے بھی شام میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذّمت کی اور انہیں ملکی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اسرائیل کے ساتھ 1974 کے غیر جانبداری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ریاض نے شام کی وحدت و تعمیر نو کی حمایت کا اعادہ کیا، کسی بھی علیحدگی پسند ایجنڈے کو مسترد کیا اور اسرائیلی حملوں کو ختم کرنے کے لیے عالمی کارروائی پر زور دیا ہے۔
دوحہ نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی ارادے کے لیے چیلنج قرار دیا ، علاقائی اور عالمی سلامتی کو لاحق خطرات سے خبردار کیا اور اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
عمان نے بھی ان اقدامات کی مذّمت کی، انہیں شام کی خودمختاری و علاقائی استحکام کے لئے خطرناک کشیدگی قرار دیا اور شام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔