چرچ آف انگلینڈ میں زیادتی کا شکار ہونے والے افراد نے کہا ہے کہ متاثرین کو ہرجانے کی ادائیگی کے لئے قائم کئے گئے ایک انٹر نیٹ پروگرام سے ڈیٹا لیک کی وجہ سے تقریباً 200 متاثرین کی ذاتی معلومات افشا ہو گئی ہیں۔
یہ صورتحال، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث گذشتہ ماہِ نومبر میں کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی کے استعفیٰ کے بعد چرچ کے لیے ایک نیا دھچکا ہے۔
دنیا بھر کے 85 ملین اینگلیکنز کے لیے مرکزی حیثیت کے حامل اس چرچ نے فروری میں اپنے انتظامی کمیٹی اجلاس میں متاثرین کے لیے ایک آزادانہ معاوضہ اسکیم کی منظوری دی تھی اپنے حفاظتی ڈھانچے میں وسیع پیمانے کی تبدیلیاں کی تھیں۔
متاثرینِ کلیسا کے قائم کردہ "دی ہاوس آف سروائیورز" نامی گروپ نے کہا ہے کہ منگل کی رات دیر گئے،ہرجانے کے لئے رجسٹریشن کروانے والے افراد، قانونی فرموں اور کلیسا کے حکام کو ایک ای میل بھیجی گئی جس میں 194 متاثرین کی تفصیلات درج تھیں۔
گروپ نے کہا ہےکہ یہ ای میل، ہرجانہ معاملات کی منتظم قانونی فرم "کینیڈیز لاء" کی جانب سے بھیجی گئی اور چند منٹ بعد اسے واپس لے لیا گیاتھا۔
دی ہاؤس آف سروائیورز نے مزید کہا ہےکہ معلومات کے افشاء نے "تحفظ اور دیکھ بھال کے معاملے میں ان ناکامیوں کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ جنہیں ہرجانہ اسکیم کے ذریعے حل کیا جانا تھا"۔
ڈیٹا لیک واقعہ انتہائی افسوسناک ہے
چرچ نے کہا ہے کہ ہمیں ڈیٹا لیک کے اس انتہائی افسوسناک واقعے سے آگاہ کیا گیا ہے اور کینیڈیز لاء نے اس افشاء کی مکمل ذمہ داری قبول کی ہے۔
چرچ نے کہا ہے کہ "ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس واقعے نے خاص طور پر ان متاثرین کو پریشان کیا ہے جنہوں نے احتیاط اور رازداری جیسے معاملات میں ہرجانہ اسکیم پر بھروسہ کیا تھا۔"
قانونی فرم نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔