اسرائیل نے مغربی غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کے قریب صحافیوں کے خیمے کو نشانہ بناتے ہوئے الجزیرہ کے پانچ نامہ نگاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
قطر ی چینل نے غزہ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر کے حوالے سے بتایا کہ الجزیرہ کے نامہ نگار انس الشریف اور محمد قرقیہ ان کے خیمے پر اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔
الجزیرہ نے بھی اتوار کے روز تصدیق کی کہ حملے میں الجزیرہ عربی کے ایک اور رپورٹر محمد کریقہ اور دو دیگر کیمرہ مین ابراہیم زہر اور محمد نوفل ہلاک ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے میں الجزیرہ عربی کے رپورٹر انس الشریف اور محمد قریقہ سمیت کیمرہ مین ابراہیم زہر اور محمد نوفل ہلاک ہوئے۔
اسرائیل نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے صحافی کو قتل کیا اور بے بنیاد دعویٰ کیا کہ وہ حماس سیل کا سربراہ تھا۔
ان کی وفات کے بعد ان کے ایکس اکاؤنٹ کے منیجرز نے ان کی وصیت شائع کی جس میں انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں شہیدوں میں شامل کریں اور ان کے پچھلے گناہوں کو معاف کریں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امید تھی کہ اللہ میری زندگی کو طول دے گا اور میں اپنے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ اپنے آبائی شہر ، مقبوضہ اسکلون ، 'مجدل' واپس آسکوں گا لیکن اللہ کی مرضی غالب آئی اور اس کا حکم پورا ہو گیا۔
"میں نے درد کو اس کی تمام حساسیت سے جیا اور بار بار نقصان اور غم کا ذائقہ چکھا۔ اس کے باوجود میں نے ایک دن بھی بغیر کسی تحریف یا جھوٹ کے حق کو بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، ، اس امید کے ساتھ کہ اللہ ان لوگوں کی گواہی دے گا جو خاموش رہے، جنہوں نے ہمارے قتل کو قبول کیا، اور جنہوں نے ہمارے بچوں اور عورتوں کی حرمت سے متاثر ہوئے بغیر ہماری سانسوں کا گلا گھونٹا ۔
انہوں نے اپنی وصیت میں عرب اور مسلم دنیا کو فلسطین اور اس کے عوام کے حوالے کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ خاموش نہ رہیں اور فلسطینیوں کی آزادی کا پل بنیں۔
الشریف کو قتل کرنے والے حملے میں چھ دیگر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے پانچ صحافی ہیں۔
پانچ صحافیوں کے قتل کے بعد غزہ میں 2023 کے اواخر سے اسرائیل کے قتل عام میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 237 تک پہنچ گئی ہے۔