مائیکروسافٹ نے، غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران کمپنی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف، احتجاج کے لیے کمپنی کے کیمپس میں کئے گئے مظاہروں میں شریک مزید 2 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔
"نسل پرستوں کے لئے ایزور ممنوع" نامی احتجاجی گروپ نے بدھ کے روز جاری کردہ اعلان کہا ہے کہ اسے انا ہیٹل اور ریکی فیمیلی کی برطرفی سے متعلق آڈیو پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
گروپ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک ضمنی بیان میں کہا ہے کہ مزید 2 ملازمین نسرین جرادت اور جولیس شان کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ ملازمین ان مظاہرین میں شامل تھے جنہوں نے حال ہی میں مائیکروسافٹ کے ہیڈکوارٹر میں احتجاجی کیمپ بھی لگائے تھے۔
مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ برطرفیاں کمپنی کی پالیسیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے پیش نظر کی گئی ہیں۔ کمپنی نے بروز جمعرات جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کیمپس کے اندر کئے جانے والے احتجاجی مظاہرے"سنگین سکیورٹی خدشات کو جنم دے رہے ہیں"۔
مائیکروسافٹ کے ایزور سافٹ ویئر کے نام سے منسوب 'نو ایزور فار اپارٹائڈ' گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرے اور فلسطینیوں کو ہرجانہ ادا کرے۔
اینا ہیٹل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ہم یہاں اس لیے جمع ہیں کہ مائیکروسافٹ اس حقیقت کے بارے میں اپنے ہی ملازمین کو گمراہ کر رہا ہے اور اسرائیل کو نسل کشی کے لیے درکار آلات فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
' ہٹل اور فیمیلی ان 7 مظاہرین میں شامل تھے جنہیں منگل کو کمپنی کے چیئرمین بریڈ اسمتھ کے دفتر پر قبضہ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ دیگر پانچ افراد مائیکروسافٹ کے سابق ملازمین اور کمپنی سے باہر کے لوگ تھے۔
جدید جنگ
رواں مہینے جاری ہونے والی ایک مشترکہ میڈیا تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کی فوجی نگرانی ایجنسی نے مائیکروسافٹ کے ایزور سافٹ ویئر کا استعمال کرکے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے ناکہ بندی والے علاقے کے رہائشی فلسطینیوں کی متعدد موبائل فون کالوں کا ریکارڈ جمع کیا ہے۔
دی گارڈین، +972 میگزین اور عبرانی نشریات دینے والے 'لوکل کال' کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی وسیع پیمانے کی نگرانی کے لیے مائیکروسافٹ کلاؤڈ سسٹم پر انحصار کرتا ہے۔
اس کے جواب میں مائیکروسافٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ معاملے کی تحقیق کے لیے قانونی فرم 'کوونگٹن اینڈ برلنگ ایل ایل پی' کے ساتھ رابطہ کرے گا۔ مائیکروسافٹ کے دیگر ملازمین نے بھی کمپنی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر احتجاج کیا ہے۔
اپریل میں مائیکروسافٹ ٹیکنالوجی کمپنی کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک فلسطین حامی ملازم نے سافٹ ویئر۔اسرائیل تعلقات کے خلاف احتجاج کے لئے کمپنی کے 'سی ای او مصطفی سلیمان' کی تقریر کو نشر ہونے سے روک دیا تھا۔ مذکورہ ملازم اور اس احتجاج کا اہتمام کرنے والے ایک اور ملازم کو بعد میں برطرف کر دیا گیا۔
اسرائیل کے قتل عام کی وجہ سے غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور بچوں سمیت بھوک سے مرنے والے فلسطینیوں کی تصاویر نے عالمی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اکتوبر 2023 سے تاحال اسرائیل غزہ میں تقریبا 63 ہزار فلسطینیوں کو قتل کر چُکا ہے جن میں زیادہ ترتعداد عورتوں اور بچے شامل ہیں۔ اسرائیل نے انسانی قتل عام کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی و جغرافیائی قتل عام بھی کر رہا ہے اور علاقے کے زیادہ تر حصے کو ملبے میں تبدیل کر کے تقریبا پوری آبادی کو بے گھر کر چُکا ہے۔