غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اقوام متحدہ: غزہ میں قحط دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے
غزّہ میں قحط ایسے دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ: غزہ میں قحط دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے
خان یونس، جنوبی غزہ میں 21 اگست 2025ء کو ایک خیراتی باورچی خانے سے کھانا حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہوئی فلسطینی لڑکی۔ / Reuters
17 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے، فلسطین کے شہر غزہ کے قحط بحران میں جان لیوا اضافے کی وجہ سے، علاقے میں انسانی امداد کی رسائی میں فوری بہتری کی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔

کل بروز جمعرات، نیویارک میں، سلامتی کونسل اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے  کہا ہے کہ بحیثیت ایک قابض قوّت کے اسرائیل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے، انسانی امداد کی رسائی کو بہتر بنائے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرے۔

گوتریس نے کہا ہے کہ خوراک، پانی اور صحت کے نظاموں کی منظم  شکل میں تباہی "ایسے دانستہ فیصلوں کا نتیجہ ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں"۔

واضح رہے کہ قحط کے اعلان نے اسرائیل پر ، کہ جو 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں  نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے  ہے، بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر  دیا ہے۔

اسرائیل نے حالیہ بیان میں  کہا ہے کہ نیتان یاہو حماس کی قبول کردہ فائر بندی تجویز کو لٹکا رہے ہیں اور  غزہ شہر پر مکمل قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھوک کے نگران عالمی ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن 'IPC' نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اسرائیل نے اس اعلان کو مسترد کر دیا  اور بدھ کے روز باضابطہ طور پر IPC سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا  ہے ۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں داخل کی جانے والی خوراک اور دیگر اشیاء کی امداد  22 ماہ کی لڑائی، رواں سال کے اوائل میں امداد کی ناکہ بندی اور غزہ میں خوراک کی پیداوار کے خاتمے کے بعدنا کافی ہے۔

جمعرات کو، عالمی خوراک پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مک کین نے کہا  ہےکہ اس ہفتے غزہ کے دورے کے دوران علاقے میں خوراک کی شدید قلت "بہت واضح"  دِکھائی دے رہی تھی۔

خوراک کے بحرانوں پر دنیا کے سب سے بڑی  اتھارٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ کے سب سے بڑے شہر میں قحط کا سامنا ہے، اور اگر جنگ بندی اور انسانی امداد پر پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو یہ قحط پورے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میں نے ذاتی طور پر غزہ میں ماؤں اور بچوں سے ملاقات کی جو بھوک سے مر رہے تھے۔ یہ سب کچھ  حقیقت ہے اور اس وقت درپیش  ہے۔"

اسرائیل اب غزہ شہر پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں لاکھوں فلسطینی پناہ لئے ہوئے ہیں۔

دریافت کیجیے
لوور میوزیم میں تاریخی تزئین و آرائش: "مونا لیزا" کے لئے خصوصی کمرہ
قیدیوں کی زبانی،الاباما جیل کہانی
ہاتشیپسوت کے تاریخی نوادرات
چار سو سال پرانا آشوری بازار
محبت کیا ہے؟
ترک فنکار، زنزیبار کی سمندری معیشت کو فنون کے ذریعے جانبرکر رہے ہیں
داتچہ میں عہدِ عثمانیہ کا غرق شدہ  بحری جہاز  17ویں صدی کی بحری تاریخ پر روشنی ڈال رہاہے
عہدِ عثمانیہ میں رمضان اور حضوری   دروس
ترک ڈرامے دنیا میں ترکیہ کے چہرے کو بدل رہے ہیں
آزادی فلسطین کی حامی وکیل عائشہ نور
ڈنمارک  کا آرکٹک سمندر  میں اپنے وجود  کو مضبوطی دلانے کے لیے 2 بلین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان
بنگلہ دیش کی طرف سے  ہندوستانی سیاست دان کی طرف سے اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطالبے کی مذمت
ہیضے نے سوڈان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو جاری جھڑپوں کے دوران 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے
یوکرین نے مغرب سے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو روس 'تمام ہتھیار' استعمال کرے گا: پوتن
آئی سی سی چیف:جنگی جرائم کی عدالت خطرے میں ہے
TRT گلوبل چیک کریں۔ اپنی رائے کا اشتراک کریں!
Contact us