برازیل نے اسرائیل کے نئے سفیر کی تقرری کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق برازیل کے، نئے اسرائیلی سفیر کی، تقرّری مسترد کرنے کے بعد اسرائیل نے اس لاطینی امریکی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کم کر دیا اور صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کو "ناپسندیدہ شخصیت" قرار دے دیا ہے۔ ان پیش رفتوں نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
لولا دا سلوا کی طرف سے، بروز پیر، کولمبیا کے لئے سابق اسرائیلی سفیر ' گالی ڈاگان' کی برازیل میں تعیناتی کو مسترد کئے جانے کی وجہ سے یہ عہدہ خالی رہ گیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اسرائیلی وزارت خارجہ کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ برازیل کے ساتھ تعلقات اب نچلی سطح پر چلائے جا رہے ہیں۔
اسرائیل وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ برازیل نے معمول کے برعکس سفیر ڈاگان کی درخواست کا جواب دینے سے گریز کیا ہے جس کے بعداسرائیل نے درخواست واپس لے لی ہے اور اب دونوں ممالک کے باہمی سفارتی تعلقات زیریں سطح پر چلائے جا رہے ہیں"۔
یہ پیش رفت ، غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کی وجہ سے، پہلے سے ہی کشیدہ برازیل۔ تل ابیب تعلقات میں ایک نئی گراوٹ کی نشاندہی کر رہی ہے ۔
برازیل نے گذشتہ سال ، اسرائیل کی غزّہ میں مچائی ہوئی تباہ کاریوں کے خلاف بطور احتجاج، اپنے سفیر کو اسرائیل سے واپس بلا لیا تھا اور اس کے بعد سے کوئی نیا سفیر مقرر نہیں کیا۔
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نازی کاروائیاں قرار دیا تھا جس کے جواب میں اسرائیل نے انہیں "ناپسندیدہ شخصیت" قراردے دیا تھا۔
صدر لولا دا سلوا نے کہا تھا کہ "غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ نہیں نسل کشی ہے۔ یہ دو فوجوں کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ ایک تربیت یافتہ فوج کی عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنگ ہے"۔
پیر کے روز، اسرائیل نے لولا دا سلوا کی "ناپسندیدہ شخصیت" حیثیت کی دوبارہ تصدیق کی ہے۔
برازیل، 2023 سے ہی غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کی مخالفت کر رہا اور فلسطین کی حمایت میں آواز بلند کر رہا ہے۔
جولائی میں جاری کردہ بیان میں برازیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ ،بین الاقوامی عدالتِ انصاف 'آئی سی جے'میں اسرائیل کے خلاف جاری نسل کشی مقدمے میں جنوبی افریقہ کی طرف سے شامل ہوگا۔
برازیل نے 5 دسمبر 2010 کو فلسطین کو، 1967 کی سرحدوں کے ساتھ، باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔