بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران کسی بھی غیر ملکی رہنما نے جنگ بندی میں ثالثی نہیں کی۔
مودی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہےکہ واشنگٹن نے امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
مئی میں پاکستان کے خلاف شروع کئے گئے "آپریشن سندور" پر پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ٹرمپ کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا ہے کہ "کسی عالمی رہنما نے ہم سے آپریشن روکنے کو نہیں کہا۔"
7 مئی سے، ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ تقریباً 30 بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دو ہمسایہ ممالک کے درمیان مکمل جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے واشنگٹن کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن نئی دہلی اس کی مسلسل تردید کر رہا ہے۔
مختصر جھڑپ
یہ جھڑپ اپریل میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حملے میں زیادہ تر ہندووں پر مشتمل 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔
بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا اور کہا تھا کہ وہ حملہ آوروں کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔
مئی میں چار دن کی شدید لڑائی کے دوران دونوں طرف سے 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے پیر کے روز اسکاٹ لینڈ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ "اگر میں نہ ہوتا تو اس وقت چھ بڑی جنگیں ہو رہی ہوتیں اور بھارت، پاکستان کے ساتھ لڑ رہا ہوتا۔"
تاہم، مودی نے دعویٰ کیا ہےکہ جنگ بندی کی درخواست پاکستان نے کی تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ "انہیں ہمارے حملوں کی شدت کا سامنا کرنا پڑا ہے"۔
یہ بیان اس وقت دیا گیا ہے جب حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے مودی کو چیلنج کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں کہیں کہ " ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں"۔
واضح رہے کہ کشمیر، جو ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، 1947 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔ دونوں ممالک اس پر مکمل حق کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس علاقے پر دو جنگوں اور متعدد تنازعات کا سامنا کر چکے ہیں۔
مئی کی لڑائی نے ان حریفوں کو ایک اور بڑی جنگ کے قریب کر دیا لیکن ٹرمپ نے عوامی طور پر جنگ کو روکنے کا سہرا اپنے سر لے لیا ۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہےجسے اسلام آباد نے تسلیم کیا لیکن نئی دہلی نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔