ایک دن قبل
جرمنی، ماہِ مئی میں نئی اتحادی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، دس ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بَدر کرچُکا ہے۔
وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے کہا ہے کہ سخت سرحدی اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور یہ پالیسی ستمبر کے بعد بھی جاری رہے گی۔
جرمنی فی الوقت 35 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
چانسلر فریڈرِک مرز نے، اپنی انتخابی مہم کے دوران، غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا وعدہ کیا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مزید جامع سرحدی کنٹرول شروع کیا تھا۔
یورپی یونین قوانین کے مطابق، عارضی سرحدی کنٹرول صرف ہنگامی حالات میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
مرز حکومت کا موقف ہے کہ پناہ گزینوں کو پناہ کی درخواستیں اپنے دَخول کے پہلے ملک مثلاً یونان یا اٹلی میں جمع کروانی چاہییں ۔