سربیا میں مخالف مظاہرین کے گروہوں کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں، پولیس کا کہنا ہے حکومت مخالف مظاہروں کے مہینوں کے بعد اس ہفتے دوبارہ سے یہ مظاہرے زور پکڑ گئے ہیں۔
نومبر سے سربیا میں بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کی لہر جاری ہے، جب نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس سانحے کو وسیع پیمانے پر بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔
جمعرات کی رات کئی شہروں میں بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔
یہ مظاہرے دارالحکومت بلغراد سے تقریباً 160 کلومیٹر شمال میں واقع ور باس قصبے میں حکومتی جماعت کے حامیوں کی جانب سے مظاہرین پر حملے کے ردعمل میں کیے گئے ۔
بدھ کے روز، حکومت کے حامی، جن میں سے زیادہ تر نے ماسک پہنے ہوئے تھے، مظاہرین کے سامنے آئے، اور دونوں گروہوں نے ایک دوسرے پر بوتلیں، پتھر اور آتش گیر مادہ پھینکا۔
پولیس نے بدھ کے روز ملک بھر میں تقریباً 50 افراد کو گرفتار کیا، اور تقریباً 30 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
آر ٹی ایس ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کو، مظاہرین نے نووی ساد میں حکمران سربین پروگریسو پارٹی (SNS) کے مرکزی دفتر اور شہر میں دو دیگر دفاتر کو نقصان پہنچایا، ، جس کے مظاہرے سربیا بھر میں پھیل گئے۔
دارالحکومت بلغراد میں، مظاہرین حکومتی عمارتوں اور فوج کے ہیڈکوارٹر کے سامنے جمع ہوئے، اس کے بعد اقتدار پارٹی کے دفاتر کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔
تاہم، پولیس کی ایک بڑی تعداد نے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دفاتر تک پہنچنے سے روک دیا۔
وزیر داخلہ ایویسا ڈاچک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "یہ اب پرامن طلبہ کے مظاہرے نہیں رہے بلکہ ایسے لوگ ہیں جو تشدد کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ یہ ریاست پر حملے کے مترادف ہے۔"
وزارت کے مطابق، جمعرات کی شام کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 14 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
کریک ڈاؤن میں شدت
حکومت کی عدم کاروائی سے مایوس ہو کر، مظاہرین نے نووی ساد سانحے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور دائیں بازو کے صدر الیگزینڈر ووچچ پر دباؤ ڈالا کہ وہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان کریں۔
گزشتہ نو مہینوں کے دوران، زیادہ تر پرامن، طلبہ کی قیادت میں مظاہرے کیے گئے، جن میں سے کچھ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
لیکن اس ہفتے کے پر تشدد واقعات نے ووچچ کی 13 سال سے اقتدار سنبھالنے والی عوامی حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کےبیان میں کہا گیا تھا کہ 28 جون سے، جب تقریباً ڈیڑ لاکھ مظاہرین بلغراد میں جمع ہوئے، حکومت نے کارکنوں پر "کریک ڈاؤن" کے ساتھ سخت جواب دیا ہے ۔
ماہرین نے کہا ہے کہ مظاہرین اور تحریک سے وابستہ افراد کو "تشویشناک سخت گیر" موقف کا سامنا کرنا پڑا، جس میں پولیس کی حد سے زیادہ طاقت، دھمکیاں اور من مانی گرفتاریاں شامل ہیں۔
ووچچ نے قبل از وقت انتخابات کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اور مظاہروں کو اپنے خلاف غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے سخت موقف اپنا رکھا ہے۔
طلبہ مظاہرین نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ وہ حکومتی حامیوں کی سرپرستی کر رہی ہے جبکہ ان کے جلسوں پر حملوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔
طلبہ نے اپنے انسٹاگرام صفحے پر لکھا ہے کہ "حکام نے گزشتہ رات خانہ جنگی کو ہوا دینے کی کوشش کی۔"
ووچچ، جنہوں نے بدھ کی رات حکومتی حامی کیمپوں کا دورہ کیا، نے ان الزامات کی تردید کی کہ ان کے حامیوں نے تشدد کو چھیڑا تھا۔
انہوں نے حکومت مخالف مظاہرین کے بارے میں کہا، "کسی نے ان پر حملہ نہیں کیا۔"
اگرچہ مظاہرے وزیر اعظم کے استعفیٰ اور ان کی کابینہ کی تحلیل کا سبب بنے، ووچچ ایک نئی تشکیل شدہ حکومت کے سربراہ کے طور پر برقرار ہیں۔