پاکستان کے شمالی علاقوں میں پیر کی صبح لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق آفت گلگت بلتستان کے شہر دنیور میں اس وقت آئی جب مزدور سیلاب سے متاثرہ آبی گزرگاہ کی مرّمت کر رہے تھے۔
فیض اللہ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ میں 7 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے ہیں۔
ملبے سے ہلاک اور زخمی افراد کو نکالنے کے لئے امدادی ٹیمیں کئی گھنٹوں تک کام کرتی رہی ہیں۔
آٹھ ہزار میٹر بلندی والی 5 چوٹیوں والے اس خوبصورت علاقے ‘گلگت بلتستان’ میں جون کے آخر سے جاری بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک درجن کے قریب سیاح اور ایک مقامی ٹی وی اینکر لاپتہ ہیں۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز ایک گلیشیائی جھیل میں طغیانی سے پیدا ہونے والا سیلابی ریلا، پاکستان کو ہمسایہ ملک چین سے منسلک کرنے والی، قراقرم ہائی وے کے ایک حصے کو بہا لے گیا ہے۔ کئی گھروں اور سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان محکمہ قدرتی آفات کے مطابق ملک بھر میں 26 جون سے جاری بارشوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہو چُکے ہیں۔
مون سون بارشیں عام طور پر جنوبی ایشیائی ملک میں تباہی کا باعث بنتی ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں اور نتیجتاً برفانی تودوں کے پگھلنے سے حالیہ برسوں میں ان کی شدت اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو گیا ہے۔