اسرائیل نے برطانوی حکومت کے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کیا اور اس اقدام کو "حماس کے لیے انعام" قرار دیا ہے۔
اسرائیل وزارت خارجہ نے منگل کوجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "فرانسیسی اقدام اور اپنے داخلی سیاسی دباؤ کے بعد برطانوی حکومت کے مؤقف میں تبدیلی حماس کے لیے ایک انعام کی حیثیت رکھتی ہے اور غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے"۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہےکہ "اگر اسرائیل، غزہ میں قتل و غارت گری کے خاتمے، جنگ بندی کی یقین دہانی اور طویل المدتی امن عمل کی حمایت کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا تو ہماری حکومت ستمبر میں متوقع اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گی"۔
گذشتہ ہفتے فرانسیس کے صدر امانوئل میکرون نے بھی کہا تھا کہ فرانس، ستمبر میں متوقع اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔
فلسطین کو اس وقت تک اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 149 تسلیم کر چُکے ہیں ۔ اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی جنگ کے آغاز کے بعد سے اس تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
انسانی بحران کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے
برطانوی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب، قتل و غارت گری بند کرنے اور محصور علاقے میں انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لئے، اسرائیل پر اندرونی اور بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
مقامی صحت حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری نسل کشی جنگ میں اسرائیلی فوج 60,000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چُکی ہے۔
پیر کے روز اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں "بی۔تسیلم" اور " فزیشنز فار ہیومن رائٹس" نے اسرائیلی حکومت پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔
مذکورہ تنظیموں نے جاری کردہ مشترکہ بیان میں فلسطینی معاشرے کی منظم تباہی اور علاقے کےنظامِ صحت کے خاتمے کا حوالہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ،جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کے الزامات کے ساتھ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اسرائیل کو غزہ میں جاری نسل کشی جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھی مقدمے کا سامنا ہے۔