غزہ میں شدید گرمی کے باعث جلدی بیماریوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے۔
الشفاء اسپتال کے سربراہ محمد ابو سلمیہ نے بروز جمعرات مقامی ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شدید گرمی کے باعث غزّہ میں تیزی سے جلدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ درجہ حرارت کی شدّت میں اضافے اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے ہر عمر کے رہائشی کی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایندھن کی فراہمی بند ہونےکی وجہ سے اسپتالوں کو ضروری طبی آلات چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ نتیجتاً مریضوں اور زخمیوں کی زندگیاں براہ راست خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ دوسری جانب صحت کا عملہ سخت حالات میں اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ابو سلمیہ نے زور دیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔اسپتال انتہائی نازک حالت میں ہیں اور ایسے حالات میں کہ جب اسرائیلی فوج اسکولوں، اسپتالوں اور بے گھر افراد کے خیموں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے زندگی بچانے والے آلات کا نہ چلنا ایک تباہ کن صورتحال ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج ، اکتوبر 2023 سے غزہ میں ایک ظالمانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور جنگ بندی کے لئے بین الاقوامی اپیلوں کو مستقل مسترد کر رہی ہے۔اسرائیل، آغاز سے تاحال جاری بھاری فضائی و زمینی حملوں اور نشانے کی فائرنگ میں 61,700 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے۔ زمینی و ماحولیاتی قتلِ عام کر رہا ہے اور علاقے کے نظام ِ صحت کو مکمل تباہ کر چکا ہے۔
گذشتہ ماہِ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے، غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کے الزامات میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسرائیل کو غزہ پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھی نسل کشی مقدمے کا سامنا ہے۔