امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش سنگین فاقہ کشی کی صورتحال کو تسلیم کرتے ہوئے اسے "خوفناک" قرار دیا ہے، جو اسرائیلی محاصرے اور انسانی امداد پر پابندیوں کے دوران جاری ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، " جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہ انتہائی خوفناک ہے ۔ یہ ایک بیانک صورتحال ہے۔"
تاہم، امریکی صدر نے اسرائیل کا ذکر نہیں کیا، جس کی جارحیت کے نتیجے میں امدادی مراکز کے قریب قطاروں میں کھڑے 1,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی غزہ کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل کے زیر انتظام متنازعہ جی ایچ ایف فوڈ ڈسٹری بیوشن مراکز کا جائزہ لے سکیں اور ایک نئی امدادی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا، " یہ دونوں حکام غزہ میں موجودہ تقسیم مراکز کا معائنہ کرنے اور مزید خوراک کی فراہمی کے منصوبے کو یقینی بنانے کے لیے سفر کریں گے اور مقامی فلسطینیوں سے ملاقات کریں گے تاکہ زمینی صورتحال کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کی جا سکیں۔"
لیوٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ حکام کن "مقامی فلسطینیوں" سے ملاقات کریں گے۔
لیوٹ کے مطابق یہ دورہ تل ابیب میں وٹکوف، ہکابی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان "انتہائی مفید" ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ایلچی اپنی واپسی کے فوراً بعد صدر کو بریفنگ دیں گے تاکہ ترسیل ِامداد منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں بھوک کے بحران پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے، جہاں اسرائیل نے 2 مارچ سے تقریباً مکمل ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے اور اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کی فوری اپیلوں کے باوجود تمام امدادی قافلوں کو روک دیا ہے۔