ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 14,000 تارکین وطن جو امریکہ جانے کی کوشش میں تھے، جنوبی امریکہ واپس لوٹ گئے ہیں، اسے الٹی ہجرت کی ایک بے مثال لہر قرار دیا جا رہا ہے۔
کولمبیا، پاناما اور کوسٹا ریکا کی حکومتوں کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوب کی طرف نقل مکانی میں جنوری سے جولائی کے دوران نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی سرپرستی کے حامل سہ فریقی مشن نے 21 جولائی سے یکم اگست تک تینوں ممالک میں اہم ہجرتی راستوں اور چیک پوائنٹس کی نگرانی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا، "اس مشن نے ہمیں یہ تصدیق کرنے کا موقع دیا کہ دارین جنگل میں ٹرانزٹ پابندیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ میں سخت امیگریشن پالیسیوں نے جنوری سے اگست 2025 کے درمیان غیر قانونی شمالی ہجرت میں 97 فیصد تک گراوٹ آئی ہے۔"
یہ صورتحال 2024 کے اسی عرصے میں 260,000 سے زیادہ تارکین وطن کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے، جنہوں نے اس وقت یہ راستہ اختیار کیا تھا۔
پر شدت سفر
اس عرصے میں واپس لوٹنے والے تارکین وطن میں زیادہ تر وینزویلا کے شہری تھے، جو دستاویزی طور پر جنوبی ہجرت کے 97 فیصد حصے پر مشتمل تھے، اور ان میں سے زیادہ تر ہمسایہ ملک کولمبیا کی طرف جا رہے تھے۔
واپسی کرنے والوں سے جمع کیے گئے 182 بیانات کی بنیاد پر، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 49 فیصد نے کہا کہ وہ اس لیے واپس لوٹے کیونکہ امریکہ میں داخل ہونا ناممکن تھا، جبکہ 46 فیصد نے گرفتاری اور ملک بدری کے خوف کو اپنی واپسی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
اس تحقیق نے اس خطے میں ہجرتی راستوں پر پر پر تشدد واقعات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ مسلح ڈکیتی، بھتہ خوری اور خاص طور پر خواتین اور کم عمر لڑکیوں پر جنسی تشدد، ، تارکین وطن کے خلاف کیے جانے والے سب سے عام جرائم کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 86.8 فیصد تارکین وطن نے یا تو براہ راست تشدد کا سامنا کیا یا راستوں پر زیادتیوں کا مشاہدہ کیا۔
یہ الٹی ہجرت بین الاقوامی انسانی امداد کی معطلی کے دوران ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے مالی بحران سے دو چار آبادیوں کو ان تحفظات سے محروم کر دیا گیا ہے جو مقامی انسانی تنظیموں کی طرف سے تاریخی طور پر فراہم کیے جاتے تھے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے کولمبیا میں نمائندے، اسکاٹ کیمبل نے کہا، "تارکین وطن کو زندگی، صحت، تعلیم اور کام کا حق حاصل ہے۔ ہم اس قسم کی نقل مکانی کی نگرانی جاری رکھیں گے۔"