شام کے صدر احمد الشرع نے اتوار کے روز عرب میڈیا کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سلامتی معاہدے پر پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔
شام کے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں الشرع نے کہا کہ دمشق اور تل ابیب کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدے پر بات چیت جاری ہے اور کوئی بھی مفاہمت 1974 کی جنگ بندی لائن پر مبنی ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لئے مناسب وقت ہے ، لیکن وہ شام اور خطے کو فائدہ پہنچانے والے کسی بھی معاہدے کو لینے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
شام کی عرب خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ منگل کے روز شام کے وزیر خارجہ اسد حسن الشیبانی نے پیرس میں اسرائیلی وفد کے ساتھ کشیدگی میں کمی، شام کے معاملات میں عدم مداخلت اور علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے مفاہمت پر بات چیت کی تھی ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت میں "جنوبی شام کے صوبہ سویدہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور 1974 کے معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے" پر بھی بات چیت کی گئی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مذاکرات امریکہ کی ثالثی میں ہو رہے ہیں اور یہ شام میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے اور اس کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔
اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 1974 کے شام اسرائیل انخلا کے معاہدے کا مقصد متحارب افواج کو الگ کرنا اور دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست جھڑپوں کو ختم کرنا ہے۔
اس معاہدے کے تحت فوجیوں کو واپس بلانے کے انتظامات کیے گئے اور دو اہم لائنیں قائم کی گئیں جنہیں ALFA اور BRAVO لائنز کے نام سے جانا جاتا ہے، جو شامی اور اسرائیلی فوجی پوزیشنوں کو الگ کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس کی نگرانی میں دونوں لائنوں کے درمیان ایک بفر زون بنایا گیا تھا۔