نیا شام
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سیکیورٹی معاہدے پر پیشرفت ہورہی ہے:شامی صدر
شام کے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں الشرع نے کہا کہ دمشق اور تل ابیب کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدے پر بات چیت جاری ہے اور کوئی بھی مفاہمت 1974 کی جنگ بندی لائن پر مبنی ہوگی
اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سیکیورٹی معاہدے پر پیشرفت ہورہی ہے:شامی صدر
/ Reuters
25 اگست 2025

شام کے صدر احمد الشرع نے اتوار کے روز عرب میڈیا کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سلامتی معاہدے پر پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔

شام کے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں الشرع نے کہا کہ دمشق اور تل ابیب کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدے پر بات چیت جاری ہے اور کوئی بھی مفاہمت 1974 کی جنگ بندی لائن پر مبنی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لئے مناسب وقت ہے ، لیکن وہ شام اور خطے کو فائدہ پہنچانے والے کسی بھی معاہدے کو لینے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

شام کی عرب خبر رساں ایجنسی کے مطابق  گزشتہ منگل کے روز شام کے وزیر خارجہ اسد حسن الشیبانی نے پیرس میں اسرائیلی وفد کے ساتھ کشیدگی میں کمی، شام کے معاملات میں عدم مداخلت اور علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے مفاہمت پر بات چیت کی تھی ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت میں "جنوبی شام کے صوبہ سویدہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور 1974 کے معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے" پر بھی بات چیت کی گئی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مذاکرات امریکہ کی ثالثی میں ہو رہے ہیں اور یہ شام میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے اور اس کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 1974 کے شام اسرائیل انخلا کے معاہدے کا مقصد متحارب افواج کو الگ کرنا اور دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست جھڑپوں کو ختم کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت فوجیوں کو واپس بلانے کے انتظامات کیے گئے اور دو اہم لائنیں قائم کی گئیں جنہیں ALFA اور BRAVO لائنز کے نام سے جانا جاتا ہے، جو شامی اور اسرائیلی فوجی پوزیشنوں کو الگ کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس کی نگرانی میں دونوں لائنوں کے درمیان ایک بفر زون بنایا گیا تھا۔

دریافت کیجیے
لوور میوزیم میں تاریخی تزئین و آرائش: "مونا لیزا" کے لئے خصوصی کمرہ
قیدیوں کی زبانی،الاباما جیل کہانی
ہاتشیپسوت کے تاریخی نوادرات
چار سو سال پرانا آشوری بازار
محبت کیا ہے؟
ترک فنکار، زنزیبار کی سمندری معیشت کو فنون کے ذریعے جانبرکر رہے ہیں
داتچہ میں عہدِ عثمانیہ کا غرق شدہ  بحری جہاز  17ویں صدی کی بحری تاریخ پر روشنی ڈال رہاہے
عہدِ عثمانیہ میں رمضان اور حضوری   دروس
ترک ڈرامے دنیا میں ترکیہ کے چہرے کو بدل رہے ہیں
آزادی فلسطین کی حامی وکیل عائشہ نور
ڈنمارک  کا آرکٹک سمندر  میں اپنے وجود  کو مضبوطی دلانے کے لیے 2 بلین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان
بنگلہ دیش کی طرف سے  ہندوستانی سیاست دان کی طرف سے اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطالبے کی مذمت
ہیضے نے سوڈان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو جاری جھڑپوں کے دوران 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے
یوکرین نے مغرب سے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو روس 'تمام ہتھیار' استعمال کرے گا: پوتن
آئی سی سی چیف:جنگی جرائم کی عدالت خطرے میں ہے
TRT گلوبل چیک کریں۔ اپنی رائے کا اشتراک کریں!
Contact us