کینیڈا نے ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے بشرطیکہ کہ فلسطینی انتظامیہ اہم اصلاحات کرے گی البتہ متنبہ کیا ہے کہ دو ریاستی حل کے امکانات ہمارے سامنے معدوم ہو رہے ہیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کینیڈا طویل عرصے سے دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہے، ایک آزاد، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست جو امن و سلامتی کے ساتھ اسرائیل کی ریاست کے شانہ بشانہ رہے گی۔
کئی دہائیوں سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ یہ نتیجہ اسرائیلی حکومت اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے امن عمل کے حصے کے طور پر حاصل کیا جائے گا مگر افسوس کی بات ہے کہ یہ طریقہ کار اب قابل قبول نہیں رہا۔
کارنی نے امن عمل کو متاثر کرنے والی متعدد پیش رفتوں کا حوالہ دیا جن میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں کی تیزی سے توسیع، اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو ضم کرنے کا اقدام اور غزہ میں امداد تک محدود رسائی کے ساتھ بڑھتے ہوئے انسانی بحران شامل ہیں۔
کارنی نے کہا کہ شہریوں کے بڑھتے ہوئے مصائب نے مربوط بین الاقوامی کارروائی میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔
کینیڈا کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا انحصار فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے انتظامی اصلاحات پر ہوگا،ان میں صدر محمود عباس کی جانب سے 2026 میں عام انتخابات کے انعقاد کا وعدہ بھی شامل ہے جس میں حماس حصہ نہیں لے گی جبکہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کو غیر فوجی بنانے کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔
کارنی نے 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اغوا کیے گئے یرغمالیوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ اس گروپ کو غیر مسلح کیا جا سکے اور فلسطین پر حکومت کرنے میں اس کا کوئی کردار نہ ہو۔
کارنی نے کہا کہ کینیڈا مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے والی ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے اسرائیل کے وجود کی ہمیشہ حمایت کرے گا۔
اسرائیل کے لیے پائیدار امن کے کسی بھی راستے کے لیے ایک قابل عمل اور مستحکم فلسطینی ریاست کی بھی ضرورت ہے جو اسرائیل کے سلامتی اور امن کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرے۔
کارنی نے کہا کہ کینیڈا بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک قابل اعتماد امن منصوبہ تیار کرے گا اور غزہ کو بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔
کینیڈا خطے میں منصفانہ، بامعنی اور دیرپا امن کی تعمیر میں تعمیری شراکت دار ہوگا جو تمام فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے وقار، سلامتی اور امنگوں کا احترام کرے گا۔