شمالی کوریا نے کہا ہے کہ کسی بھی نئی سربراہی ملاقات سے پہلے امریکہ کا،شمالی کوریا کو بحیثیت جوہری ریاست کے، قبول کرنا ضروری ہے۔
شمالی کوریا کی خبر رساں ایجنسی 'کے سی این اے' کے مطابق شمالی کوریا نے منگل کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ کسی بھی نئی سربراہی ملاقات سے پہلے شمالی کوریا کو ایک جوہری ہتھیاروں کے مالک ملک کی حیثیت سے قبول کرے ۔
'کےسی این اے' کے مطابق شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن کی بہن اور کوریا ورکرز پارٹی مرکزی کمیٹی کی ڈپٹی چیئرمین کِم یو۔جونگ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری حیثیت کو "مسترد کرنا" اب ناممکن ہے۔
کِم یو نے کہا ہے کہ " بحیثیت جوہری ہتھیاروں کے مالک ملک کے ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا ' ڈی پی آر کے ' کے ناقابل تردید مقام اور صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جیوپولیٹک ماحول کی دیرینہ تبدیلی کی حقیقت کا اعتراف ،مستقبل کے بارے میں کسی بھی پیش گوئی اور منصوبے کے لیے، ایک شرط ہوناچاہیے۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "کوئی بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا اور اس بارے میں کسی غلط فہمی میں بھی نہیں رہنا چاہیے۔"
کِم یو نے وائٹ ہاؤس کے دوبارہ مذاکرات پر آمادگی سے متعلق حالیہ بیانات کے جواب میں ان تبصروں کو ماضی کے "یکطرفہ جائزے" قرار دیا اور خبردار کیا ہے کہ 2025 "نہ تو 2018 ہے اور نہ ہی 2019۔"
واضح رہے کہ ان کا بیان ان تین غیر معمولی سربراہی ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو 2018 میں سنگاپور میں ، 2019 میں ہنوئی میں اور 2019 میں کورین بفر زون میں ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ہوئی تھیں۔
ٹرمپ، 2019 میں شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے برسرِ اقتدار امریکی صدر تھے۔
پیانگ یانگ کے ساتھ اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں پر مذاکرات کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر، انہوں نے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیانی بفر زون میں کِم سے ملاقات کی تھی۔
کم یو نے شمالی کوریا کے رہنما اور ٹرمپ کے درمیان اچھے ذاتی تعلقات کو تسلیم کیا اور خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلے کے بغیر جوہری تخفیف کے اہداف کو جاری رکھتا ہے تو ایسے تعلقات بے معنی ہیں ۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اگر امریکہ بدلی ہوئی حقیقت کو قبول کرنے میں ناکام رہتا ہے اور ماضی کی ناکام پالیسیوں پر اصرار کرتا ہے تو 'ڈی پی آر کے۔امریکہ' ملاقات امریکہ کے لئے محض ایک 'امید' ہی رہے گی۔"