پینٹاگون نے یوکرین کو امریکی ساختہ طویل مار کے ٹیکٹیکل میزائل سسٹموں کو روس کے اندرونی اہداف کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کی ہفتے کے روز امریکی حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق پینٹاگون نے یوکرین کو امریکی ساختہ طویل مار کے عسکری ٹیکٹیکل میزائل سسٹموں (ATACMS) کو روس کے اندرونی اہداف پر گرانے سے روک دیا ہے۔ اس پابندی سے کیف کی ان ہتھیاروں کو ، ماسکو کی جارحیت کے خلاف بطور دفاع، استعمال کرنے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے ۔
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، تین سالہ روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے امن معاہدے کے حصول میں ناکامی کے بعد زیادہ مایوس ہو گئے ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اور بعد ازاں یورپی رہنماؤں اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت حاصل نہ ہونے کے بعد ٹرمپ نے بروز جمعہ جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ وہ ،دوبارہ روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے یا پھر امن مرحلے سے دستبرداری پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ"میں فیصلہ کرنے جا رہا ہوں کہ ہم کیا کریں گے اور یہ ایک بہت اہم فیصلہ ہوگا۔ دیکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ بڑے پیمانے کی پابندیاں ہوتا ہے یا بھاری محصولات یا پھر دونوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم امن مرحلے سے نکل جائیں اور کہیں کہ یہ آپ کی لڑائی ہے"۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ پوتن اور زیلنسکی کے درمیان دو طرفہ ملاقات کا اہتمام کریں گے لیکن یہ بھی مشکل ثابت ہوا ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کو این بی سی کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے لیے کوئی ایجنڈا طے نہیں کیا گیا۔
لاوروف نے این بی سی کو بتایا ہے کہ"کسی سربراہی اجلاس کے لئے ایجنڈہ طے پانے پر پوتن،زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہیں لیکن یہ ایجنڈہ اس وقت طے نہیں ہے"۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وائٹ ہاؤس کی، پوتن کو امن مذاکرات میں شمولیت پر قائل کرنے کی، کوشش کے دوران پینٹاگون نے یوکرین کو روسی علاقے میں اندر تک حملے کرنے سے روک دیا تھا۔
جرنل کے مطابق دُور مار ہتھیاروں کے استعمال پر حتمی فیصلے کا اختیار وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے پاس ہے۔
یوکرین کے صدارتی دفتر اور وزارت دفاع نے دفتری اوقات کےبعد رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا کوئی فوری جواب نہیں دیا۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔