غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے: ٹرمپ
میں چاہتا ہوں کی صحافیوں کو غزّہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گا تاکہ وہ حالات کا مشاہدہ کر سکیں اور علاقے سے خبریں فراہم کر سکیں: ڈونلڈ ٹرمپ
صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے: ٹرمپ
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ / AP
15 اگست 2025

امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "غزّہ میں انسانی حالات کے مشاہدے اور خبروں  کی فراہمی کے لئے صحافیوں کو محصور غزہ میں جانے کی اجازت دی جائے "۔

جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ "میں چاہتا ہوں کی صحافیوں کو غزّہ میں داخلے کی اجازت دی جائے  گا  تاکہ وہ حالات کا مشاہدہ کر سکیں  اور علاقے سے خبریں فراہم کر سکیں"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میں صحافیوں کے غزّہ میں داخلے  کے حق میں ہوں۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں صحافت ایک بہت خطرناک  ذمہ داری ہے لیکن میں چاہوں گا کہ ایسا ہو"۔

یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا  ہے جب دنیا بھر سے 100 سے زائد صحافیوں، فوٹوگرافروں اور جنگی نامہ نگاروں نے غزّہ میں جاری  قتل و غارت گری کی  آزادانہ کوریج کے لیے غیر ملکی صحافیوں  کو علاقے میں  "فوری اور بلا رکاوٹ" داخلے کی اجازت دیئے جانے  کے مطالبے پر مبنی ایک  درخواست پر دستخط کیے ہیں ۔

مذکورہ  درخواست "رائٹ ٹُو رپورٹ" نامی مہم کا حصہ ہے، جسے ایوارڈ یافتہ جنگی فوٹوگرافر آندرے لیون نے شروع کیا تھا۔ اس پر دنیا کے مشہور صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات جیسے الیکس کرافورڈ (اسکائی نیوز)، مہدی حسن، کرسٹیان امان پور (سی این این)، کلاریسا وارڈ، اور معروف جنگی فوٹوگرافر ڈان مککلن نے دستخط کیے ہیں۔

درخواست گزاروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ اور شفاف رپورٹنگ کی اجازت دے اور کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے بین الاقوامی میڈیا پر عائد کی گئی پابندی "عوام کے جاننے کے حق کی کھلی خلاف ورزی" ہے۔

آزادی  صحافت کے گروپوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا اسرائیل سے پابندیاں ہٹانے کی اپیل کی  اور خبردار کیا ہے کہ غزہ سے آزادانہ رپورٹنگ کی غیر موجودگی نے عالمی عوام کو محدود اور  فوجی ذرائع کے منظور شدہ بیانیوں اور مقامی صحافیوں کے کام پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان مقامی صحافیوں کی اکثریت بھی جنگ میں قتل کی جا چُکی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے جاری  قتل عام  اور نسل کُشی کے بعد سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ  کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔

دریافت کیجیے
لوور میوزیم میں تاریخی تزئین و آرائش: "مونا لیزا" کے لئے خصوصی کمرہ
قیدیوں کی زبانی،الاباما جیل کہانی
ہاتشیپسوت کے تاریخی نوادرات
چار سو سال پرانا آشوری بازار
محبت کیا ہے؟
ترک فنکار، زنزیبار کی سمندری معیشت کو فنون کے ذریعے جانبرکر رہے ہیں
داتچہ میں عہدِ عثمانیہ کا غرق شدہ  بحری جہاز  17ویں صدی کی بحری تاریخ پر روشنی ڈال رہاہے
عہدِ عثمانیہ میں رمضان اور حضوری   دروس
ترک ڈرامے دنیا میں ترکیہ کے چہرے کو بدل رہے ہیں
آزادی فلسطین کی حامی وکیل عائشہ نور
ڈنمارک  کا آرکٹک سمندر  میں اپنے وجود  کو مضبوطی دلانے کے لیے 2 بلین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان
بنگلہ دیش کی طرف سے  ہندوستانی سیاست دان کی طرف سے اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطالبے کی مذمت
ہیضے نے سوڈان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو جاری جھڑپوں کے دوران 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے
یوکرین نے مغرب سے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو روس 'تمام ہتھیار' استعمال کرے گا: پوتن
آئی سی سی چیف:جنگی جرائم کی عدالت خطرے میں ہے
TRT گلوبل چیک کریں۔ اپنی رائے کا اشتراک کریں!
Contact us