آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا ہے کہ تہران، آسٹریلیا میں یہود مخالف حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کر کے "اپنی حد سے تجاوز کر رہا ہے"۔
بدھ کے روز اے بی سی ریڈیو کے لئے جاری کردہ بیان میں پینی وونگ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا حکومت کا ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ درست ہے اور ایک طویل تحقیق کے بعد کیا گیا ہے۔
پینی نے کہا ہے کہ "یقیناً، ہم نے ایران کے وزیر خارجہ کے بیانات دیکھے ہیں اور ہم انہیں مسترد کرتے ہیں"۔
انہوں نے کہا ہے کہ" ایران میں ہمارے عملے کی عدم موجودگی کی وجہ سے آسٹریلوی شہریوں کے لئے میرا پیغام واضح اور دوٹوک ہے ۔ایران کی سیاحت نہ کریں اور اگر آپ ایران میں ہیں تو برائے مہربانی اپنے وطن واپس لوٹیں"۔
پینی وونگ نے یہ بیانات ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے بعدجاری کئے ہیں کہ جس میں انہوں نے آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز کو "کمزور سیاستدان" قرار دیا اور کہا ہے کہ "ایران، آسٹریلیا میں کسی بھی حملے میں ملّوث نہیں ہے"۔
عراقچی نے منگل کی رات سوشل میڈیا 'ایکس' سے جاری کردہ بیان میں لکھا تھا کہ"ایران میں بیسیوں یہودی عبادت گاہیں ہیں اور یہاں دنیا کی قدیم ترین یہودی برادریاں آباد ہیں۔ایسے میں کہ جب ہم اپنے ملک میں یہودی اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت کرتے ہیں ہم پرآسٹریلیا کے یہودی مقامات پر حملوں کا الزام لگانا بالکل بے بنیاد ہے" ۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ایران، فلسطین کے لیے آسٹریلوی عوام کی حمایت کی قیمت چکا رہا ہے۔ کینبرا ،جنگی مجرموں کی زیرِ قیادت اسرائیلی حکومت کو خوش کرنے کی کوششوں سے، زیادہ بہتر اقدامات کر سکتا ہے۔ آسٹریلیا کو جان لینا چاہیے کہ حالیہ کاروائیاں نیتن یاہو اور ان جیسے لوگوں کی مزید حوصلہ افزائی کریں گی"۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے منگل کے روز،اس دعوے کے ساتھ کہ ایران آسٹریلیا میں یہودی مخالف حملوں میں ملّوث ہے، ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔آسٹریلیا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار کسی سفیر کو ملک بدر کیا ہے اور وزیرِ اعظم البانیز نے یہ بھی کہا ہےکہ آسٹریلیا، ایران کے پاسدارانِ انقلاب فوجی دستوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے گا۔